off-canvas Menu

 

سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس

Rate this item
(5 votes)

بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد اللہ و کفی و سلام علی عبادہ اللذین اصفطی

امابعد۔۔۔۔۔۔!

حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب دامت برکاتہم کو امریکہ کا دورہ کرنے کا موقع ملا، شکاگو یونیورسٹی میں سنت نبوی ﷺ پر طلبہ میں بات ہوئی، پڑھے لکھے حضرات کی محفل دیکھ کر حضرت نے سنت نبوی ﷺ اور جدید سائنسی انکشافات کے موضوع پر بیان فرمایا۔
بہترین طریقہ زندگی:
سنت نبوی ﷺایک ستارے کی مانند ہے کہ جس کو جس زاویہ سے بھی دیکھیں یہ روشن نظر آئے گی، سنت نبوی ﷺ دیکھنے کا ایک زاویہ تو یہ ہے کہ ہم عمل کریں گے تو اللہ رب العزت راضی ہوں گے، محشر میں کامیابی ہو گی اور جنت میں جگہ ملے گی ، یہ سب باتیں سو فیصد درست ہیں مگر انکو ایک طرف رکھ دین Topic of Discussion یہ کہ جس کام کو نبی ﷺ نے جس طریقے سے کیا ، دنیا میں اس کام کے کرنے کا اس سے بہتر کوئی اور طریقہ نہ تھا۔

وضو کی سنتیں:
آج سائنسی علوم بہت تفصیل سے سامنے آ چکے ہیں انکی روشنی میں میرے محبوب ﷺ کی سنتوں کا جائزہ لیا جاتا ہے تو چمکتے ہوئے ستاروں اور نگینوں کی طرح نظر آتی ہیں ، ایک آدمی جب صبح کو سو کر اٹھتا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ پہلے وہ وضو کرے گا، وضو میں ہم کیا کرتے ہیں۔ قدرتی طور پر جسم کے جو اعضاء کھلے رہتے ہیں ان کو دھویا جاتا ہے، ہاتھوں کو کہنیوں تک دھویا جاتا ہے، پاوں کو دھویا جاتا ہے نارمل جسم کے یہ وہ حصے ہیں جو کام کرتے وقت کھلے رہ جاتے ہیں ان کو دن میں پانچ مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا ہے ، بقیہ جسم تو عام طور پر کپڑوں سے ڈھکا ہوا ہوتا ہے، جسم کے وہ حصے جو کہ کام کاج کے وقت کھلے رہتے ہیں ، تو انکو گویا پانچ مرتبہ دھویا جانا چاہیے ، تو دیکھئے ایک آدمی جب اپنے چہرے کو دھوتا ہے تو اس کے اوپر جتنے بھی مٹی کے ذرات ہوتے ہیں وہ سارے کے سارے صاف ہو جاتے ہیں ، چہرے کے دھونے کا عمل دن میں پانچ مرتبہ کیا جاتا ہے، دنیا کا کوئی بھی صاف ترین آدمی لے لیجئے جو کہ مسلمان نہ ہو وہ اپنے چہرے کو دن میں کتنی مرتبہ دھوئے گا صج کو ٹب لے لے گا اور شام کو شاور لے لے گا زیادہ تیر مارے گا تو دوپہر کو منہ دھولے گا، پابندی کے ساتھ دن میں پانچ مرتبہ چہرا، ہاتھ، پاوں دھونا یہ سعادت صرف ایک مسلمان کو حاصل ہوتی ہے۔
ہاتھ دھونا:
وضو میں سب سے پہلے ہاتھ دھوئے جاتے ہیں چوں کہ ہاتھ عام طور پر کام کاج میں مصروف رہتے ہیں اسلئے ان کے جراثیم اور میل کچیل سے آلودہ ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے جو لوگ آٹو مکینک ہوتے ہیں انکے ہاتھوں پر تو گریس وغیرہ خوب لگی ہوتی ہے، اگر ہاتھوں کو نہ دھویا ablution-washing-handsجائے، اور ایسے ہی کلی کی جائے تو انگلیوں پر موجود جراثیم اور میل منہ کے اندر جا سکتی ہے، وضو کے دوران منہ کو دھویا جاتا ہے، پاک کیا جاتا ہے، مسواک کا اتنا اہتمام بتلا گیا کہ مسواک کے ساتھ پڑھی گئی نماز بغیر مسواک کے پڑھی گئی نماز سے پچیس گنا زیادہ فضیلت رکھتیہے۔
آج اگر سائنس کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو انسان کا منہ اسکے لیے غذا کے اندر لے جانے کا ایک راستہ ہوتا ہے اس کا Crushing Unit ہے۔ جب انسان کھانا کھاتا ہے، اگر منہ کو صاف نہ کرے اور اس میں کچھ ذرات بچ جائیں تو ان ذرات میں کچھ عرصہ کے بعد بدبو پیدا ہو جاتی ہے، گوشت اور غذا کے کچھ باریک ٹکڑے پھنس جائیں تو ان میں Fermentation پیدا ہو جاتی ہے، اب یہ دانتوں کے لیے نقصان دہ ہے اور ویسے بھی منہ کے اندر بدبو مچائیں گے اور منہ کے اندر جراثیم پیدا کریں گے اور پھر اسی گندگی کے ساتھ اگر وہ بندہ اگلا کھانا کھائے گا تو یہ منہ کی گندگی بھی خوراک کے ساتھ اسکے معدہ میں چلی جائے گی ، انسان کے دانتوں کے اندر جو جگہیں ہوتی ہیں ، وہاں جراثیم نے اپنی کالونیز بنائی ہوتی ہیں ، لاکھوں کے حساب سے جراثیم وہاں پرورش پا رہے ہوتے ہیں ، اب جو آدمی اپنے منہ کوصاف نہیں کرتا وہ اپنی غذا کے ساتھ بیماریوں کے جراثیم خود اندر لے جا رہا ہوتا ہے اور اپنے آپ کو بیمار کرنے کا ذریعہ بنا رہا ہوتا ہے اللہ رب العزت کے محبوب  دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنے کی تلقین فرماتے ہیں اور ہر مرتبہ مسواک کے ساتھ وضو کرنے کی تلقین فرماتے ہیں آپ مجھے کوئی بندہ دنیا میں بتا دیں جو دن میں پانچ مرتبہ برش کر کے اپنے دانتوں کو پانچ مرتبہ صاف کرتا ہو، دنیا میں سب سے زیادہ صاف رہنے والا غیر مسلم بھی دن میں دو یا تین مرتبہ اپنے منہ کو صاف کرے گا دن میں پانچ مرتبہ اپنے منہ کو صاف کرنے اور اپنے دانتوں کو برش کرنے کی سعادت کس کو نصیب ہے یہ فقط مسلمان کو نصیب ہے اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ایک وقت تھا کہ جب باہر کے ملک کا سفر کیا جاتا تھا تو لوگ اس وقت کہتے تھے ، کہ صبح جانے سے پہلے برش کیا جانا چاہیے دنیا کے ذہن میں صبح برش کرنے کی عادت چھائی ہوئی تھی، مگر اب جب سائنس کی تحقیقات اور زیادہ ہوئی تو سائنس نے تھوڑا پینترا بدلا کہ صبح کے وقت برش کرنا اہم تو ہے مگر اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ رات کوسونے سے پہلے برش کرنا. میں نے ایک ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ وہ کیوں ؟ کہنے لگے کہ دن میں تو انسان بوتا رہتا ہے اور منہ کو حرکت دیتا رہتا ہے جس کی وجہ سے جراثیم کو ہلاک کرنے کا موقع نہیں ملتا مگر رات کو جب آدمی منہ بند کر کے سو جاتا ہے تو سارا منہ ساکن ہو جاتا ہے جسکی وجہ سے جراثیم کے پھلنے پھولنے کا زیادہ سے زیادہ وقت ملتا ہے دانتوں کو خراب کرنے کا ، لہذا ڈینٹل ڈاکڑ اس بات کی تصدیق کریں گے کہ رات کو جتنے دانت خراب ہو سکتے ہیں اتنے دانت دن کو خراب نہیں ہو سکتے اب ویسٹ میں کہتے ہیں کہ رات کو دانت برش کر کے سونا چاہیے میں نے کہا میرے محبوب  کی سنت ہے کہ آپ  رات کو جب بھی سوتے تھے باوضو ہو کر سوتے تھے اور ہر وضو میں چونکہ دانت بھی صاف کرتے تھے لہذا آپ  رات کو اپنا منہ صاف کرکے آرام فرماتے تھے دنیا نے تو آج کہنا شروع کیا ہے اور اللہ کے محبوب  نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے اس بات کی ہمیں تعلیم دے دی ہے۔

ناک میں پانی ڈالنا:

اسکے بعد ہم ناک میں پانی ڈالتے ہیں، ناک کے راستے سے ہوا اندر جاتی ہےناک کے اندر جو بال ہیں وہ فلٹر کا کام کرتے ہیں ہم اپنی کاروں ablution-washing-noseکے فلٹر کچھ عرصہ کے بعد تبدیل کرواتے ہیں، صاف کرواتے ہیں ہمیں تو چاہیے کہ ہم اپنا بھی ایر فلٹر صاف کیا کریں کتنی مرتبہ؟ دن میں پانچ مرتبہ حکم ہوا کیوں؟ ممکن ہے دن میں آپ ایسی جگہ سے گزرے ہوں جہاں ہوا کے اندر کوئی  Plasma یا جراثیم موجود ہوں آپ Inhale  "سانس اندر" لے رہے ہوں اور ہوا کے اندر جو جراثیم ہیں وہ ناک کے اندر آ چکے ہوں لہذا آپ کو اس  Air filter کو دن میں پانچ مرتبہ صاف کرنے کا حکم دیا گیا۔

جلدی بیماریوں سے نجات:

ایک ایم بی بی ایس ڈاکٹر لکھتے ہیں کہ جو آدمی ناک کو دن میں پانچ مرتبہ صاف کرے گا اسکی جلد کی بیماریاں دور ہو جائیں گی ۔

چہرے کے ساتھ آنکھوں کا دھلنا:

انسان کی آنکھ دن میں پانچ مرتبہ دھوئی جا رہی ہیں، ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ ہماری آنکھ کے اوپر چھوٹے چھوٹے   جمع ہو رہے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالی نے صفائی کا نظام آٹو میٹک بنا دیا ہے، یہ ہماری آنکھ جو جھپکتی ہے اسکے ساتھ تھوڑا سا پانی سا لگا ہوتا ہےجو   کا کام دیتا ہےیہ  چلتا رہتا ہے اور یہ آنکھ کو صاف کرتا رہتا ہے۔ اس کا پتہ ایسے چلا کہ ایک صاحب کا ایکسڈینٹ ہوا ، اسکی آنکھ کا اوپر کا جو پردہ تھا وہ کٹ گیا اب یہ ablution-washing-faceآنکھ سوئے تو بھی ننگی، جاگے تو بھی ننگی، ایک مصیبت پڑ گئی کہ ہر گھنٹے دو گھنٹے کے بعد آنکھ کا دیکھنا دھندلا ہو جاتا، ڈاکٹر کہتے کہ آپ آنکھ جھپکتے رہتے تھے صفائی ہوتی رہتی تھی اب یہ صفائی نہیں ہوتی اب گرد جو جمع ہوتی ہے اسکی وجہ سے تمہیں صحیح نظر نہیں آتا ، چنانچہ اس نے آنکھ کو دھونا شروع کر دیا ایک دفعہ دھوئے دو دفعہ دھوئے چنانچہ بار بار پانی ڈال رہا ہے۔ دن میں بیسیوں دفعہ پانی ڈال رہا ہے حتی کہ چھ مہینوں کے اندر اسکے چہرے کا گوشت گلنا شروع ہو گیا پانی زیادہ ڈالنے کی وجہ سے تو کہنے کو تو یہ ایک چھوٹا سا پردہ ہے جو بار بار حرکت کرتا ہے مگر یہ پردہ اتنا بڑا کام کر رہا ہے کہ اس کی قدر کا احساس تب ہوا جب آدمی اس نعمت سے محروم ہو گیا ، انسان تو کام کر رہا ہے مگر اس کی   دن میں پانچ مرتبہ بتائی گئی ہے آج کل امراض چشم کے ماہر کہتے ہیں کہ تازہ پانی سے آنکھوں کو دھونا چاہیے یہ انسان کو مختلف بیماریوں سے بچاتا ہے حتی کہ کالا موتیا اور سفید موتیا کے جو مریض ہوتے ہیں ان کو بھی کہتے ہیں کہ اپنی آنکھوں کو پانی سے صبح واش کریں۔

ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا:

پھر بازووں کو کہنیوں سمیت دھویا جاتا ہے دیکھئے کہ اکثر لوگ کام کاج کرتے وقت اپنی آستینیں اوپر چڑھا لیتے ہیں جسکی وجہ سے ہاتھوں کے ablution-washing-arms
ساتھ ساتھ بازو بھی آلودگی کا شکار ہو جاتے ہیں اگر ان کو بھی نہ دھویا جائے تو جلد خراب ہو سکتی ہے، مثلا جب مزدور لوگ سیمنٹ وغیرہ بناتے ہیں تو بازووں پر بھی سیمنٹ لگ جاتا ہے اور اگر وہ بازو نہ دھوئیں تو جلد خراب ہو جاتی ہے۔

کانوں کا مسح کرنا:

اسکے بعد ہم اپنی گردن کے پچھلے حصے پر مسح کرتے ہیں۔ ہمارے دماغ سے جتنا بھی نروس سسٹم کو سگنل کا کام جا رہا ہےوہ ریڑھ کی ہڈی سے ablution-mashaپیچھے کی جانب سے جاتا ہے یہ ہمارا   ہے۔ جیسے کمپیوٹر میں   ہوتا ہے اس کے اوپر سگنل جا رہے ہوتے ہیں، ہمارے پورے   کی جو  ٹرانسمیشن لائن ہےوہ ہمارے دماغ سے پوری کی پوری وائرنگ اس پچھلے حصے سے ہوتی ہوئی ہماری ریڑھ کی ہڈی میں داخل ہوتی ہے اور یہ کام کر رہی ہوتی ہے، یہ جگہ ہماری کتنی اہم ہے کیا عام آدمی دن میں پانی لگا کر اسے   کرتا ہے؟ نہیں کرتا ، اگر سردیوں کے دنوں میں تین دن بعد نہایا ہے تب دھوئے گا وضو کرنے والا جو آدمی ہے وہ دن میں پانچ مرتبہ کر رہا ہوتا ہے اس لئے کہ یہاں کی  کے اندر  پیدا نہ ہو   کے پیدا ہونے سے   کے سگنل میں فرق پڑ سکتا ہے، جو کمپیوٹر سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں وہ اس بات کو   کریں گے کہ جو   ہے اسکے اوپر اگر کسی وجہ سے   آ جائے تو پھر کمپیوٹر گڑبڑ کر جاتا ہے۔ 

ایک فیکٹری میں    تھا جو ایک دم   ہو جاتا تھا اسکی ہر چیز ٹھیک تھی، پھر کچھ عرصہ کے بعد   ہو جاتا بڑی مشکل سے اسکا   معلوم کیا، وہ کیا تھا کہ اس کی جو مین ڈیٹا ہائی وے تھی وہ ایک جگہ سے اندر داخل کی جا رہی تھی اورٹرن لیتے ہوئے اس جگہ پر اس میں کچھ کھنچاو آ گیا تھا جب وہ دبتی تھی تو بیرونی پریشر کی وجہ سے اس کے اندر   پیدا ہو جاتا تھا اور وہ   ہو جاتا تھا۔

ہمیں اس جگہ کو تر رکھنے کا حکم دیا گیا اور دن میں پانچ مرتبہ ایسے تر کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ یہاں کے    "ریزے" صاف رہیں اور ان میں   "پریشانی" پیدا نہ ہوں، آپ جسم کے کسی حصہ کو بالکل نہ دھوئیں آپ دو مہینے کے بعد دیکھیں گے کہ اس جگہ کھنچاو سا محسوس ہونے لگ جائے گا  وہ جگہ خشک سی ہو جاتی ہے تو اس کا انسان کو نقصان ہوتا ہے ، لہذا شریعت نے پانچ مرتبہ اس کو تر کرنے کا حکم دیا۔

پاوں دھونا: 

ہمارے ایک دوست شوگر کے مریض تھے وہ کسی ڈاکٹر کو چیک کروانے کیلئے امریکہ گئے ، امریکن ڈاکٹر نے کہا مجھے پاوں دکھائیں انھوں نے ablution-washing-footپاوں دکھائے تو بڑے صاف ، کہنے لگا کہ آپ کا شوگر لیول بلڈ میں اتنا ہے اور آپ کے پاوں بالکل صاف ہیں یہ کیسے ہوا؟ اس نے کہا کیوں؟ کہنے لگا، شوگر کے مریضوں کا عام طور پر شوگر لیول زیادہ ہونے کی وجہ سے ان کا بلڈ جو   "بہاو" پورا نہیں رہتا لہذا پاوں  "بے حس" ہو جاتے ہیں ، جب بلڈ کا دوران پورا نہیں رہے گا تو وہ پاوں جو ہیں وہ  نہیں رہتے ، پتہ نہیں چلتا کہ پاوں کے ساتھ کوئی چیز لگی ہے یا نہیں، کئی مرتبہ پاوں پر زخم لگ جاتے ہیں اور شوگر کے مریضوں کو پتہ ہی نہیں چلتا، خود شوگر کے مریض بتائیں گے یہاں تو چوٹ لگی تھی کب لگی تھی اس کا بھی پتہ نہیں تو پاوں اس کے بعد   نہ ہونے کی وجہ سے سگنل نہیں دیتے، عام طور پر ان کی انگلیوں کے درمیان زخم بن جاتا ہے اور ان کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ پاوں کی انگلیوں کے درمیان کیا ہوا ہے اور اگر زخم ایک مرتبہ ہو جائے تو مندمل بھی نہیں ہوتا لہذا شوگر کے مریضوں کے لئے پاوں کے زخم ایک   بنے ہوئے ہوتے ہیں ، تو ڈاکٹر لوگ اگر شوگر لیول ہائی ہو تو پاوں دیکھتے ہیں کہ اس کا   اثر کیا ہو رہا ہے، اس نے دیکھا تو پاوں بالکل صاف شفاف، کہنے لگا یہ کیوں ہے؟ اس نے کہا، مجھے کیا معلوم البتہ دن میں چار پانچ مرتبہ دھوتا ہوں، کہنے لگا پانچ مرتبہ دھوتے ہوا، کہنے لگا جی ہاں، میں مسلمان ہوں دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھتا ہوں ، ہمارے لئے نماز سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے ، اور ہم اسے دن میں پانچ مرتبہ دھوتے ہیں ، اس نے کہا، اچھا مجھے دھو کر دکھاو، جب اس نے دھو کر دکھایا تو اس نے پاوں کو اچھی طرح ملا تاکہ پانی ہر جگہ پہنچ جائے، پھر انگلیوں کے درمیان خلال کیا ، جب اس نے دکھایا تو اس نے کہا آج مجھے ایک نئی حقیقت کا پتہ چلا کہ جو مسلمان ہو گا شوگر کا مریض بھی ہو جائے تو اس کے پاوں کبھی بھی اس طرح خراب نہیں ہو سکتے ، اس نے کہا وہ کیوں؟ کہنے لگا، اس لئے کہ تم تو دن میں پانچ مرتبہ مسح کرتے ہو، اب وہ اس   سے دیکھ رہا ہے، امریکن ڈاکٹر کہتا ہے کہ ہر مسلمان دن میں پانچ مرتبہ پاوں کا مسح کرتا ہے، کہنے لگا جو تم دھو رہے ہو اسمیں اصل تم اپنے پاوں کا مساج بھی کر رہے ہو اور جس شریانوں میں خون کا دوران نہیں پہنچتا مساج کرنے سے خون کا دوران بھی ٹھیک ہو جاتا ہے اور انگلیوں میں خلال کرنے کی وجہ سے فنکس بھی ختم ہو جاتا ہے لہذا کوئی عام مریض شوگر کا اس لیول کا ہوتا تو اس کو کتنے نقصانات ہوتے، ایک آدمی باقاعدگی سے وضو کرنے والا ان فوائد کو حاصل کر لیتا ہے۔

تصاویر ان ویب سائٹس سے لی گئی ہیں۔

http://islamicartdb.com

www.wikihow.com

http://atlasm.free.fr

 

 

Read 6965 times

Add comment

Security code
Refresh