off-canvas Menu

 

حجیت حدیث

Rate this item
(10 votes)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمین، وَالصَّلاۃُ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَریمِ وَعَلٰی آلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِین

حدیث کی تعریف:

اُس کلام کو حدیث کہا جاتا ہے جس میں نبی اکرم کے قول یا عمل یا کسی صحابی کے عمل پر آپ کے سکوت، یا آپ کی صفات میں سے کسی صفت کا ذکر کیاگیا ہو۔ حدیث کے دو اہم جزء ہوتے ہیں۔

 (۱) سند : جن واسطوں سے نبی اکرم  کا قول یا عمل یا تقریر یا آپ کی کوئی صفت امت تک پہونچی ہو۔ 

(۲) متن : وہ کلام جس میں نبی اکرم  کے قول یا عمل یا تقریر یا آپ کی کوئی صفت ذکر کی گئی ہو۔ 

مثال کے طور پر:

عن فلان عن فلان عن عمر بن الخطابؓ عن رسول اللہ قال: انما الاعمال بالنیات۔۔۔۔۔

فلاں شخص نے فلاں شخص سے اور انہوں نے حضرت عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم نے فرمایااس کو سند حدیث کہتے ہیں اور اعمال کا دارومدار نیت پر ہےیہ متن حدیث ہے۔

 

حجیت کے معنی:

حجیت کے معنی استدلال(کسی حکم کو ثابت کرنا )کرنے کے ہیں، یعنی قرآن کریم کی طرح احادیث مبارکہ سے بھی عقائد واحکام وفضائل اعمالثابت ہوتے ہیں، البتہ اس کا درجہ قرآن کریم کے بعد ہے۔

حجیت حدیث قرآن کریم سے:

اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پاک کلام قرآن کریم میں متعدد مرتبہ حدیث رسولﷺکے قطعی دلیل ہونے کو بیان فرمایا ہے، جن میں سے چند آیات مندرجہ ذیل ہیں:

 * یہ کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ لوگوں کی جانب جو حکم نازل فرمایا گیا ہے، آپ  اسے کھول کھول کر بیان کردیں، شاید کہ وہ غوروفکرکریں۔ (سورۂ النحل ۴۴)

* یہ کتاب ہم نے آپ  پر اس لئے اتاری ہے کہ آپ  ان کے لئے ہر چیز کو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں آیات میں واضح طور پر فرمادیا کہ قرآن کریم کے مفسر اول حضور اکرمﷺ ہیں، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم پر یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ آپ امت مسلمہ کے سامنے قرآن کریم کے احکام ومسائل کھول کھول کر بیان کریں ۔ (سورۂ النحل ۶۴)

* تمہیں جو کچھ رسول دیں لے لو، اور جس سے روکیں رک جاؤ ۔ (سورۂ الحشر ۷)

* اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (سورۂ آل عمران ۱۳۲)

* جس نے رسول کی اطاعت کی ، اس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبردای کی۔ (سورۂ النساء ۸۰)

* اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ اگر یہ منہ پھیرلیں تو بے شک اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ (سورۂ آل عمران ۳۲)

* اے ایمان والو! فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول اکرم کی اور تم میں سے اختیار والوں کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسےلوٹاؤ اللہ اور اس کے رسول کی طرف۔ (سورۂ النساء ۵۹)

* تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور ڈرتے رہو۔ اگر منہ پھیروگے تو یہ جان لو کہ ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔(سورۂالمائدہ۹۲)

* اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم ایمان والے ہو۔(سورۂ الانفال ۱)

* اے ایمان والو! اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو۔ اس کی فرمانبرداری سے روگردانی نہ کرو سنتے جانتے ہوئے۔(سورۂ الانفال ۲۰)

* اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرو۔ آپس میں اختلاف نہ کرو ورنہ بذدل ہوجاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر کرو۔ (سورۂ الانفال ۴۶)

* (مومن مرد اور مومن عورتیں سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا کام کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں)، نماز قائم کرتے ہیں، زکواۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوکر رہے گی۔(سورۂ التوبہ ۷۱)

* ایمان والوں کا قول تو یہ ہے کہ جب انہیں اس لئے بلایا جاتا ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان میں فیصلہ کردے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مان لیا۔ (سورۂ النور۵۱)

* جو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرے، اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کی نافرمانی سے بچے، وہی لوگ کامیاب ہیں۔ (سورۂ النور ۵۲)

* اے نبی! آپ کہہ دیجئے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم نے روگردانی کی تو رسول کے ذمہ تو صرف وہی ہے جو اس پر لازم کیا گیا ہے اور تم پراس کی جوابدہی ہے جو تم پر لازم کیا گیا ہے۔  (سورۂ النور ۵۴)

* نماز کی پابندی کرو، زکواۃ کی ادائیگی کرو ،اور رسول کی اطاعت کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔(سورۂ النور ۵۶)

* اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرو۔ (سورۂ محمد ۳۳)

* توَ اب نمازوں کو قائم رکھو، زکاۃ دیتے رہو اور اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرتے رہو۔ (سورۂ المجادلہ ۱۳)

* اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچادینا ہے۔ (سورۂ التغابن ۱۲)

ان تمام آیات میں اتباع رسول کا حکم دیا گیا ہے۔ کہیں فرمایا: (اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول)، کہیں فرمایا: (اطیعوا اللہ ورسولہ)، کسی جگہ ارشاد ہے: (اطیعوا ا للہوالرسول) اور کسی آیت میں ارشاد ہے: (اطیعوا الرسول)۔ ان سب جگہوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ فرمانِ الہی کی تعمیل کرو اور ارشاد نبویکی اطاعت کرو۔

* اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ کی اطاعت کو اطاعت الہی قرار دیتے ہوئے فرمایا: جس شخص نے رسول اللہکی اطاعت کی ، اس نے دراصل اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔ (سورۂ النساء ۸۰)

* اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اطاعتِ رسول کو حب الہی کا معیار قرار دیا یعنی اللہ تعالیٰ سے محبت رسول اکرمکی اطاعت میں ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا: اے نبی! لوگوں سے کہہ دیں کہ اگر تم حقیقیت میں اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ (سورۂ آل عمران ۳۱)

 * جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولکی اطاعت کرے گا اسے اللہ تعالیٰ ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولکی نافرمانی کرے گا، اور اسکی مقررہ حدوں سے آگے نکلے گا ، اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لئے رسوا کن عذاب ہے۔غرضیکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہ کرنے والوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔ (سورۂ النساء ۱۳۔۱۴)

* جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ تعالیٰ ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اور جو منہ پھیرےگا ، اسے وہ دردناک عذاب دے گا۔

ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہمیشہ ہمیشہ کی جنت اور اللہ اور اس کے رسولکی نافرمانی پر ہمیشہ ہمیشہ کے عذاب کافیصلہ فرمایا۔ (سورۂ الفتح ۱۷)

* جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام نازل فرمایا ہے، یعنی انبیاء،صدیقین، شہداء اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولکی اطاعت کرنے والوں کاحشر انبیاء، صدیقین، شہداء اور نیک لوگوں کے ساتھ ہوگا۔ (سورۂ النساء ۶۹)

* کسی مومن مرد ومومنہ عورت کویہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولکسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو پھر اسے اس معاملہ میں خود فیصلہ کرنے کااختیار حاصل ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولکی نافرمانی کرے گا، وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔ (سورۂ الاحزاب ۳۶)

* (اے میرے نبی!) تیرے رب کی قسم ! یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو، اس پر اپنے دلوں میں تنگی بھی محسوس نہ کریں بلکہ سر تسلیم خم کرلیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہکے فیصلوں کی نافرمانی کو عدم ایمان کی نشانی اور آپ کی اطاعت کو ایمان کی علامت قرار دیا۔ (سورۂ النساء ۶۵)

 * اے ہمارے رب! ان میں انہیں میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے۔ (کتاب سے مراد قرآن کریم اورحکمت سے مراد حدیث ہے) (سورۂ البقرہ۱۲۹) 

* اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جبکہ رسولتمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔ (سورۂ الانفال ۲۴)

* یقیناًتمہارے لئے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ موجود ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے۔ یعنی نبی اکرمکی زندگی جو احادیث کے ذخیرہ کی شکل میں ہمارے پاس محفوظ ہے کل قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کے لئے بہترین نمونہ ہے کہ ہم اپنی زندگیاں اسی نمونہ کے مطابق گزاریں۔ (سورۂ الاحزاب ۲۱)

* اس آیت میں اللہ تعالیٰ حکم رسولاور سنت نبویکی مخالفت کرنے والوں کو جہنم کی سزا سناتے ہوئے فرماتا ہے : جو شخص رسول کا خلاف کرے اور اہلایمان کی روش کے سوا کسی اور کے راستے پر چلے جبکہ ہدایت اس پر واضح ہوچکی ہے تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے، جو بدترین ٹھکانا ہے۔(سورۂ النساء ۱۱۵)

غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں متعدد جگہوں پر یہ بات واضح طور پر بیان کردی کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ رسول کی اطاعت بھی ضروری ہےیعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت رسول اکرم کی اطاعت کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول کی اطاعت کا حکم دیا اور رسول کی اطاعت جن واسطوں سے ہم تک پہونچی ہے یعنی احادیث کا ذخیرہ ، ان پر اگر ہم شک وشبہ کرنے لگیں تو گویا یا تو ہم قرآن کریم کی اِن مذکورہ تمام آیات کے منکرہیں یا زبان حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی چیز کا حکم دیا ہے یعنی اطاعت رسول ،جو ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔

حجیت حدیث نبی اکرم کے اقوال سے :

سارے انبیاء کے سردار و آخری نبی حضور اکرمنے بھی قرآن کریم کے ساتھ سنت رسولکی اتباع کو ضروری قرار دیا ہے، حدیث کی تقریباً ہر کتاب میں نبی اکرمکے ارشادات تواتر کے ساتھ موجود ہیں، ان میں سے صرف تین احادیث پیش خدمت ہیں:

* رسول اللہنے ارشاد فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ (بخاری ومسلم)

* رسول اللہنے ارشاد فرمایا: جب میں تمہیں کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آجاؤ اور جب میں تمہیں کسی کام کا حکم دوں تو حسب استطاعت اس کی تعمیل کرو۔ (بخاری ومسلم)

* رسول اللہنے ارشاد فرمایا: میری امت کے تمام افراد جنت میں جائیں گے، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے انکار کیا۔ آپ سے کہا گیا کہ اے اللہ کےرسول ا ! دخولِ جنت سے کون انکار کرسکتا ہے؟ تو آپنے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگیا، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے (دخول جنت سے) انکار کیا۔ (بخاری ومسلم)

حجیت حدیث اجماع سے:

نبی اکرمکی زندگی میں اور انتقال کے بعد صحابۂ کرام کے عمل سے امت مسلمہ نے سنت رسولکے حجت ہونے پر اجماع کیاہے، کیونکہ صحابۂ کرام کسی بھی مسئلہ کا حل پہلے قرآن کریم میں تلاش کیا کرتے تھے، پھر نبی اکرمکی سنت میں ۔ اسی وجہ سے جمہور علماء کرام نے وحی کی دو قسمیں کی ہیں، جیسا کہسورۂ النجم کی ابتدائی آیات (وَمَا ےَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی) (اور نہ وہ اپنی خواہش سے کوئی بات کہتے ہیں ۔ وہ تو صرف وحی ہے جو اتاری جاتی ہے)سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے:

(۱) وحی متلو: وہ وحی جس کی تلاوت کی جاتی ہے، یعنی قرآن کریم، جس کا ایک ایک حرف کلام الٰہی ہے۔ 

(۲) وحی غیر متلو: وہ وحی جس کی تلاوت نہیں کی جاتی ہے، یعنی سنت رسول،جس کے الفاظ نبی اکرمکے ہیں ، البتہ بات اللہ تعالیٰ کی ہے۔

بعض حضرات قرآن کریم کی چند آیات مثلاً ( سورۂ النحل ۸۹) اور (سورۂ الانعام ۱۵۴) سے غلط مفہوم لے کر یہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں ہر مسئلہ کا حل ہے اور قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے حدیث کی کوئی خاص ضرورت نہیں ہے۔ حالانکہ حدیث رسول بھی قرآن کریم کی طرح شریعتِ اسلامیہ میں قطعی دلیل اور حجت ہے، جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں متعدد مقامات پر مکمل وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے،یعنی نبی اکرمکے اقوال وارشاد سے بھی احکام شرعیہ ثابت ہوتے ہیں۔

قرآن کریم میں عموماً احکام کی تفصیل مذکور نہیں ہے، نبی اکرمنے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنے اقوال واعمال سے ان مجمل احکام کی تفصیل بیان کی ہے۔ اسی لئے تو اللہ تعالیٰ نبی ورسل کو بھیجتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اپنے اقوال واعمال سے امتیوں کے لئے بیان کریں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر نماز پڑھنے، رکوع کرنے اور سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن نماز کی تفصیل قرآن کریم میں مذکور نہیں ہے کہ ایک دن میں کتنی نمازیں ادا کرنی ہیں؟ قیام یا رکوع یا سجدہ کیسے کیا جائے گا اورکب کیا جائے گا ؟اور اس میں کیا پڑھا جائے گا؟ ایک وقت میں کتنی رکعت ادا کرنی ہیں؟

 اسی طرح قرآن کریم میں زکاۃ کی ادائیگی کا تو حکم ہے لیکن تفصیلات مذکور نہیں ہیں کہ زکاۃ کی ادائیگی روزانہ کرنی ہے یا سال بھر میں یا پانچ سال میں یا زندگی میں ایک مرتبہ؟ پھر یہ زکاۃ کس حساب سے دی جائے گی؟ کس مال پر زکاۃ واجب ہے اور اس کے لئے کیا کیا شرائط ہیں؟ 

غرضیکہ اگرحدیث کی حجیت پر شک کریں تو قرآن کریم کی وہ سینکڑوں آیات جن میں نماز پڑھنے ، رکوع کرنے یا سجدہ کرنے کا حکم ہے یا زکاۃ کی ادائیگی کاحکم ہے، وہ سب نعوذ باللہ بے معنی ہوجائیں گی۔ 

 اسی طرح قرآن کریم (سورۂ المائدہ ۳۸) میں حکم ہے کہ چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھوں کو کاٹ دیا جائے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ دونوںہاتھ کاٹیں یا ایک ہاتھ؟ اور اگر ایک ہاتھ کاٹیں تو داہنا کاٹیں یا بایاں؟ پھر اسے کاٹیں تو کہا ں سے؟ بغل سے؟ یا کہنی سے؟ یا کلائی سے؟ یا ان کے بیچمیں کسی جگہ سے؟ پھر کتنے مال کی قیمت کی چوری پر ہاتھ کاٹیں؟ اس مسئلہ کی مکمل وضاحت حدیث میں ہی ملتی ہے، معلوم ہوا کہ قرآن کریم کو حدیث کے بغیر نہیں سمجھا جاسکتا ۔

 اسی طرح قرآن کریم (سورۂ الجمعہ) میں یہ ارشاد ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لئے پکارا جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑدو۔سوال یہ ہے کہ جمعہ کا دن کونسا ہے؟ یہ اذان کب دی جائے؟ اس کے الفاظ کیا ہوں؟ جمعہ کی نماز کب ادا کی جائے؟ اس کو کیسے پڑھیں؟ خریدوفروخت کی کیا کیا شرائط ہیں ؟ اس مسئلہ کی مکمل وضاحت احادیث میں ہی مذکور ہے۔

 بعض حضرات سند حدیث کی بنیاد پر ہوئی احادیث کی اقسام یا راویوں کو ثقہ قرار دینے میں محدثین وفقہاء کے اختلاف کی وجہ سے حدیث رسول کو ہی شک وشبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم قیامت تک آنے والے تمام عرب وعجم کی رہنمائی کے لئے نبی اکرمپر نازل فرمایا ہے اور قیامت تک اس کی حفاظت کا وعدہ کیاہے۔ اور اسی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے متعدد جگہوں (مثلاً سورۂ النحل ۴۴، ۶۴)پرارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی! یہ کتاب ہم نے آپ پر نازل فرمائی ہے تاکہ آپ اس کلام کو کھول کھول کر لوگوں کے لئے بیان کردیں۔ تو جس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے الفاظ کی حفاظت کی ہے، اس کے معانی ومفاہیم جو نبی اکرمنے بیان فرمائے ہیں وہ بھی کل قیامت تک محفوظ رہیں گے، ان شاء اللہ۔ قرآن کریم کے الفاظ کے ساتھ ساتھ اس کے معنی ومفہوم کی حفاظت بھی مطلوب ہے ورنہ نزول قرآن کا مقصد ہی فوت ہوجائے گا۔

 اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ احادیث کے ذخیرہ میں بعض باتیں غلط طریقہ سے نبی اکرمکی طرف منسوب کردی گئی ہیں۔ لیکن محدثین وعلماء کی بے لوث قربانیوں سے تقریباً تمام ایسے غلط اقوال کی تحدید ہوگئی ہے جو حدیث کے کامل ذخیرہ کا ادنی سا حصہ ہے۔ جہاں تک راویوں کے سلسلہ میں محدثین وعلماءکے اختلافات کا تعلق ہے تو اس اختلاف کی بنیاد پر حدیث کی حجیت پر شک نہیں کیا جاسکتا ہے، کیونکہ اختلاف کا اصل مقصد خلوص کے ساتھ احادیث کے ذخیرہ میں موضوعات کو الگ کرنا اور احکام شرعیہ میں ان ہی احادیث کو قابل عمل بنانا ہے جس پر کسی طرح کا کوئی شک وشبہ نہ رہے۔ جہاں کوئی شک وشبہ ہوا تو ان احادیث کو احکام کے بجائے صرف اعمال کی فضیلت کی حد تک محدود رکھا جائے۔

مثلاً مریض کے علاج میں ڈاکٹروں کا اختلاف ہونے کی صورت میں ڈاکٹری پیشہ کو ہی رد نہیں کیا جاتاہے۔ اسی طرح مکان کا نقشہ تیار کرنے میں انجینئروں کے اختلاف کی وجہ سے انجینئروں کے بجائے مزدوروں سے نقشہ نہیں بنوایا جاتا ہے۔ موجودہ طرقی یافتہ دور میں بھی تعلیم وتعلم کے لئے ایک ہی کورس کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ ہر علاقہ میں زندگی گزانے کے طریقے مختلف ہیں، غرضیکہ زندگی کے تقریباً ہر شعبہ میں اختلاف موجود ہے، ان اختلافات کے باوجودہم زندگی کے ہی منکر نہیں بن جاتے، تو احادیث کی تقسیم اور راویوں کو ثقہ قرار دینے میں اختلاف کی وجہ سے حدیث کا ہی انکار کیوں؟ بلکہ بسا اوقات یہ اختلافات امت کے لئے رحمت بنتے ہیں کہ زمانے کے خدوخال کے اعتبار سے مسئلہ کا فیصلہ کسی ایک رائے کے مطابق کردیا جاتا ہے۔ نیز ان اختلافات کی وجہ سے تحقیق کا دروازہ بھی کھلا رہتا ہے۔

ایک شبہ کا ازالہ: 

اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن کریم میں تدبر وتفکر کرنے کا حکم دیا ہے،مگر یہ تدبر وتفکر مفسر اول حضور اکرمکے اقوال وافعال کی روشنی میں ہی ہونا چاہئے ،کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے متعدد جگہوں پر ارشاد فرمایا ہے کہ اے نبی! یہ کتاب ہم نے آپ پر نازل فرمائی ہے تاکہ آپ  اس کلام کو کھول کھول کر لوگوںکے لئے بیان کردیں۔ ہمارا یہ ایمان ہے کہ نبی اکرمنے اپنی اس ذمہ داری کو بخوبی انجام دیا۔ لیکن کچھ حضرات قرآن کریم کی تفسیر میں نبی اکرم کے اقوال واراشادات کو ضعیف یا موضوع قرار دے کر اپنی رائے تھوپنا شروع کردیتے ہیں، جو کہ سراسر گمراہی ہے۔ یقیناًہر شخص کو قرآن کریم سمجھ کر پڑھناچاہئے، کیونکہ یہ کتاب ہماری ہدایت اور رہنمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی ہے نیز نبی اکرمنے قرآن کریم کے احکام کھول کھول کر بیان فرمادئے ہیں، لیکن ہمارے لئے ضروری ہے کہ واقف حضرات کی سرپرستی میں قرآن وسنت کی روشنی میں قرآن کریم کو سمجھیں پھر اس کا درس دیں۔ یاد رکھیں کہ علماء حق کا موقف ہے کہ جس مسئلہ میں بھی نبی اکرم کے اقوال یا اعمال سے رہنمائی مل سکتی ہے خواہ اس حدیث کی سند میں تھوڑا ضعف بھی ہو،ان مسائل میں اپنے اجتہاد وقیاس اور اپنے عقلی گھوڑے دوڑانے کے بجائے نبی اکرم کے اقوال و اعمال کے مطابق ہی عمل کیا جائے۔

 حدیث کی قسمیں: سندِ حدیث (جن واسطوں سے نبی اکرم کا قول یا عمل یا تقریر یا آپکی کوئی صفت امت تک پہونچی ہے ) کے اعتبار سے حدیث کی مختلف قسمیں بیان کی گئی ہیں،جو اختصار کے ساتھ حسب ذیل ہیں:

متواتر: جس حدیث کی روایت کرنے والوں کی تعداد ہر زمانہ میں اتنی زیادہ ہو کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا ناممکن ہو۔

مشہور: جس حدیث کی روایت کرنے والوں کی تعداد ایک بڑی جماعت ہو۔

آحاد: جس حدیث کی روایت کرنے میں کسی ایک زمانہ میں صرف ایک ہی راوی ہو۔

مرفوع: جس کی سند حضور اکرم تک پہونچتی ہو۔

موقوف: جس کی سند کسی صحابی تک پہونچتی ہو۔

مقطوع: جس کی سند کسی تابعی تک پہونچتی ہو۔

صحیح لذاتہ: وہ حدیث مرفوع جسکی سند میں ہر راوی علم وتقویٰ دونوں میں کمال کو پہونچا ہوا ہو، اور ہر راوی نے اپنے شیخ سے حدیث سنی ہو۔ نیز حدیث کےمتن میں کسی دوسرے مضبوط راوی کی روایت سے کوئی تعارض بھی نہ ہو، اور کوئی دوسری علت (نقص) بھی نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔ جمہور محدثین کا ان احادیث سے عقائد واحکام ثابت کرنے میں اتفاق ہے۔

صحیح لغیرہ: وہ حدیث مرفوع جسکی سند میں ہر راوی تقویٰ میں تو کمال کو پہونچا ہوا ہو، اور ہر راوی نے اپنے شیخ سے حدیث بھی سنی ہو، نیز متنِ حدیث میں کسی دوسرے مضبوط راوی کی روایت سے کوئی تعارض بھی نہ ہو، لیکن کوئی ایک راوی علم میں اعلیٰ پیمانہ کا نہ ہو، اور کوئی دوسری علت( نقص) بھی نہ ہو،البتہ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہو جس کے تمام راوی علم میں بھی اپنے کمال کو پہونچے ہوئے ہوں تو یہ حدیث صحیح لغیرہ کہلائی جائے گی۔ ۔۔۔۔۔۔۔جمہور محدثین کاان احادیث سے عقائد واحکام ثابت کرنے میں اتفاق ہے۔ 

حسن لذاتہ: وہ حدیث مرفوع جسکی سند میں ہر راوی تقویٰ میں تو کمال کو پہونچا ہوا ہو، اور ہر راوی نے اپنے شیخ سے حدیث بھی سنی ہو، نیز حدیث کے متن میں کسی دوسرے مضبوط راوی کی روایت سے کوئی تعارض بھی نہ ہو۔ لیکن کوئی ایک راوی علم میں اعلیٰ پیمانہ کا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جمہور محدثین کا ان احادیث سے عقائد واحکام ثابت کرنے میں اتفاق ہے، البتہ اس کا درجہ صحیح سے کم ہے۔

حسن لغیرہ: حدیثِ حسن کی شرائط میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہو، البتہ یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہو جس میں وہ شرط موجود ہے تو یہ حدیث حسن لغیرہ بن جاتی ہے۔ ان احادیث سے عقائد یا احکام ثابت کرنے میں محدثین کی رائے مختلف ہیں۔

ضعیف: حدیثِ حسن کی شرائط میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہو۔ جمہور محدثین کا اتفاق ہے کہ ضعیف حدیث سے عقائد یا احکام ثابت نہیں ہوتے، البتہ قرآن یا احادیث صحیحہ سے ثابت شدہ اعمال کی فضیلت کیلئے ضعیف حدیث قبول کی جاتی ہے۔

حدیث قدسی: اُس حدیث کو حدیث قدسی کہا جاتا ہے جس میں نبی اکرمسے مروی ہو کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے پیغام کو اللہ تعالیٰ ہی کے الفاظ میں ذکر کیا جائے تو وہ حدیث حدیث قدسی کہلائی جاتی ہے ۔ جبکہ حدیث نبوی میں نبی اکرم اللہ تعالیٰ کے پیغام کو اپنے الفاظ کے ذریعہ بیان فرماتے ہیں۔ 

احادیث قدسیہ کی تعداد: احادیث قدسیہ کی تعداد کے متعلق علماء ومحدثین کی رائے متعدد ہیں ۔ علامہ ابن حجر ؒ کی تحقیق کے مطابق احادیث قدسیہ کی تعداد سوسے کچھ زیادہ ہے۔ 

قرآن اور حدیث قدسی میں فرق: اگرچہ حدیث قدسی بھی اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل ہوتی ہے لیکن حدیث قدسی اور قرآن کریم کے درمیان واضح فرق موجود ہیں، چند فرق مثال کے طور پر مذکور ہیں:

۱) قرآن معجزہ ہے، اس کے مثل ایک آیت پیش نہ کئے جاسکنے کا قیامت تک کے لوگوں کو چیلینج ہے۔ جبکہ حدیث قدسی معجزہ نہیں ہے۔

۲) قرآن کریم فصاحت وبلاغت کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے برخلاف حدیث قدسی کے۔

۳) قرآن کریم تواتر کے ساتھ امت تک پہونچا ہے، اس کے ایک ایک لفظ کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔

۴) قرآن کریم کو بغیر وضو کے چھو نہیں سکتے، نیز ناپاک شخص اس کی تلاوت نہیں کرسکتا ہے برخلاف حدیث قدسی کے۔

۵) قرآن کریم کی تلاوت عبادت ہے، نماز میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا ضروری ہے برخلاف حدیث قدسی کے۔

حدیث قدسی کی مثال: حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہنے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ، وَاَنَا مَعَہُ اِذَا ذَکَرَنِیْ، فَاِنْ ذَکَرَنِیفِیْ نَفْسِہِ ذَکَرْتُہُ فِیْ نَفْسِہِ، وَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلاءٍ ذَکَرْتُہُ فِی مَلاءٍ خَےْرٍ مِنْہُمْ (بخاری ومسلم) نبی اکرمکا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں بندہ کے ساتھویساہی معاملہ کرتا ہوں جیسا کہ وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے۔ اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اسکے ساتھ ہوتا ہوں، پس اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتاہے تومیں بھی اس کو اپنے دل میں یا د کرتا ہوں اور اگر وہ میرا مجمع میں ذکر کرتا ہے تو میں اس مجمع سے بہتر یعنی فرشتوں کے مجمع (جو معصوم اور بے گنا ہیں) میں تذکرہ کرتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن وسنت کے مطابق زندگی گزارنے والا بنائے۔ آمین۔ ثم آمین۔
محمد نجیب قاسمی سنبھلی( ریاض) (This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.)


Read 6223 times
More in this category: « The Significance of Dua

Add comment

Security code
Refresh