تقدیر پرراضی رہیے

تقدیر پرراضی رہیے

 تقدیر پرراضی رہیے
==========

حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کاموں کی حرص کرو جوتم کو نفع پہنچانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ سےمدد مانگو اور عاجز ہو کر نہ بیٹھو اور اگر دنیاوی زندگی میں تمہیں کوئی مصیبت اور تکلیف پہنچے تو یہ مت کہو کہ اگر یوں کرلیتا تو ایسا نہ ہوتا اور اگر یوں کر لیتا تو ایسا ہو جاتا۔بلکہ یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور مشیت یہی تھی جو اللہ نے چاہا اس لیے کہ لفظ “اگر “شیطان کے عمل کا دروازہ کھول دیتاہے۔(مسلم )

اس حدیث شریف میں عجیب وغریب تعلیم دی گئی ہے کہ اس دنیا میں سکون ، عافیت اور اطمینا ن حاصل کرنے کےلیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ انسان تقدیر پر یقین اور ایمان لے آئے ۔ یہ دنیا خوشی وغم سے مرکب ہے ۔ہماری کیا حقیقت ہے دنیا کی اس زندگی میں انبیاء علیہم السلام پر بھی تکالیف اور پریشانیاں آتی ہیں اور عام لوگوں سے زیادہ آتی ہیں ۔

اس لیے دنیا کی ان تکالیف پر یہ سوچنا شروع کر دیا کہ ہائے یہ کیوں ہوا؟ اگر ایسا کرلیتے تو یہ نہ ہوتا،فلاں وجہ اور سبب کےایسا ہو گیا ایسا سوچنے سے حسرت بڑھتی ہے اور اللہ تعالیٰ پر شکوہ پیدا ہوتاہے کہ معاذاللہ یہ ساری مصیبتیں میرے مقدر میں رہ گئی تھیں ۔

اس لیے حدیث شریف میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جب تمہیں پریشانی یا تکلیف آئے تو یہ سمجھ لو کہ یہ جو کچھ پیش آرہا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے پیش آیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی اس کی حکمت ومصلحت جانتے ہیں ۔ البتہ اس تکلیف پر رونا آئے تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔ بشرطیکہ اللہ تعالیٰ سے اس مصیبت پر شکوہ نہ ہو ۔

سامان تسکین :حقیقت میں انسان کےپاس تقدیر پر راضی ہونے کےعلاوہ چارہ ہی کیا ہے ؟ اس لیے کہ تمہارے ناراض ہونے سے وہ فیصلہ بدل نہیں سکتا، جو غم پیش آیا ہے ،تمہاری ناراضگی سے وہ غم دورنہیں ہو سکتا۔ بلکہ اس میں مزید اضافہ ہو جائے گا ۔ اگر غور کیا جائے تو یہ نظرآئے گا کہ تقدیر پر راضی رہنے میں درحقیقت انسان کی تسلی کا سامان ہے ۔

ماخوذ از:” آج کا سبق “صفحہ 426

تالیف :مفتی اعظم حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars (No Ratings Yet)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *